The smart Trick of سولانا ٹوکنز That Nobody is Discussing

امریکہ-ایران مذاکرات کا امکان: اسلام آباد کا فائیو سٹار ہوٹل حکومتی تحویل میں، جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ اور بھاری ٹریفک معطل

Stay notify to unexpected sector shifts, liquidity adjustments, and exterior triggers so you're able to regulate downside and secure your place by way of well timed updates.

دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک نے بٹ کوائن کیوں اپنایا؟

تمام متن کری ئیٹیو کامنز انتساب / یکساں-شراکت اجازت نامہ کے تحت دستیاب ہے، اضافی شرائط بھی عائد ہو سکتی ہیں۔ تفصیل کے لیے استعمال کی شرائط ملاحظہ فرمائیں۔ خیال رہے کہ ویکیپیڈیا® ایک غیر منفعت بخش تنظیم ویکی میڈیا فاؤنڈیشن انکارپوریشن کا تجارتی مارکہ ہے۔

یہ کمپیوٹرز جن میں سے اکثر بٹ کوائن بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، ہائی ٹیک اکاؤنٹنٹس کی طرح کام کرتے ہیں جو بٹ کوائنز کے لین دین کا ریکارڈ جانچتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ اس کام کے عوض کمپیوٹرز کو خود بخود بٹ کوائنز ہی ملتے ہیں۔

چونکہ اس میں کرنی صارف کی ملکیت اور قبضے میں مجلس العقد میں ہی آجاتی ہے اس وجہ سے اس ٹریڈنگ میں لین دین کرنا جائز ہے۔

No banking companies, no Center levels, only a secure community where by each individual transaction is verified because of the Group and tracked by way of ongoing updates.

بٹ کوائن مائننگ کمپنیاں طاقتور کمپیوٹرز سے بھرے ویئر ہاؤسز چلاتی ہیں اور اس کرنسی کے لین دین کے عوامی بلاک چین کو اپ ٹو ڈیٹ رکھتی ہیں۔ اس کام کے عوض بٹ کوائن کا نظام خود بخود انھیں بٹ کوائنز ایک ایسے عمل کے ذریعے دیتا ہے جسے مائننگ کہتے ہیں۔

بھوٹان کے بحران کی سب سے قوی علامات میں سے ایک حالیہ برسوں میں نوجوان ، تعلیم یافتہ لوگوں کو دوسرے ممالک میں خارج کرنے کا ایک ہے – اور ان کی رخصتی صرف ملک کی معاشی جدوجہد میں اضافہ کرتی ہے۔

یہ بطور مثال بٹ کوائن کی ٹرانزیکشن کا طریقہ کار مختصراً ذکر کیا گیا۔ اس میں ایک احتمال باقی ہے وہ یہ کہ کیا حسن واقعتا اس بٹ کوائن کا مالک تھا بھی یا اس نے جعل سازی کے تحت یہ کوائن فرضی طور پر بنا رکھا تھا ؟ عام زندگی میں اس سوال کا جواب کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ دیتے ہیں جس کے تحت وہ یہ ذمے داری لیتے ہیں کہ معاملہ ہر قسم کی جعل سازی سے پاک ہے لیکن بٹ کوائن چونکہ ایک ڈی سینٹر لائیز ڈ ٹیکنالوجی پر قائم ہوتا ہے تو اس میں کوئی ادارہ یا بینک یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کا عمل بنایا گیا جس میں یہ احتمال دور کیا جاتا بٹ کوائن ہے کہ واقعتا حسن اس بٹ کوائن کا مالک تھا اور وہ اس میں کوئی دھوکہ دہی کا معاملہ نہیں کر رہا۔ ہم نے ذکر کیا کہ مختلف کرنسیوں میں یہ تصدیق کا عمل مختلف طریقوں سے ہوتا ہے۔ کچھ کرنسیوں میں سٹیکنگ“ کا عمل ہوتا ہے جبکہ بٹ کوائن میں یہ تصدیق کا عمل ” مائیننگ کے ذریعے ہوتا ہے۔

بٹ کوائن کے خریداروں یا اس معاملے پر نظر رکھنے والوں میں سے شاید ہی کوئی ہو جو سافٹ ویئر کا کاروبار پری سیل کرنے والے مائیکل سائلر کو نہیں جانتا ہو۔

اگر آپ اب بھی کرپٹو کی دلچسپ دنیا کو سمجھنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو شاید آپ کو سکون کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں، تمام رقم بنی بنائی ہے، چٹانوں سے لے کر کاغذ تک، سونے تک، ڈیجیٹل بِٹس تک، پیسے کی قیمت صرف اس صورت میں ہوتی ہے جب آپ کو یقین ہو کہ وہ قیمتی ہے۔

کرپٹو کی قدر کا انحصار، عام پیسوں کی طرح، بیوقوف لوگوں پر ہوتا ہے جو بے تکی چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ آپ اچھے مقاصد کے لیے ہر ایک دن کاغذ کے ٹکڑوں کی تجارت کرتے ہیں تاکہ کھانے پینے اور بس پر سواری کرنے یا دیگر ضروریات زندگی پوری کر سکیں۔

انشورنس فراڈ: گاڑیوں پر حملہ کرنے والا ’ریچھ‘ انسان نکلا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *