پولیس نے پانچ گھنٹے تالاب میں چھپے رہنے والے انتہائی مطلوب چور کو کیسے پکڑا؟
مختصر مدت کے کرپٹو سرمایہ کاروں کے لیے دیگر خطرات بھی ہیں۔ اس کی قیمتیں تیزی سے تبدیل ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ جہاں بہت سے لوگوں نے صحیح وقت پر خرید کر تیزی سے پیسہ کمایا ہے، وہیں بہت سے دوسرے لوگوں نے کرپٹو کریش سے ٹھیک پہلے ایسا کر کے پیسے کھو دیے ہیں۔
’پاکستان میں کریپٹو کرنسی قانونی نہیں، اسے مشکوک مانیں‘
کرپٹو کرنسی بِٹ کوائن نے حال ہی میں تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے جس کے بعد پہلی مرتبہ اس کی قیمت ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ہو گئی تھی۔
یہ کمپیوٹرز جن میں سے اکثر بٹ کوائن بنانے والی بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہوتے ہیں، ہائی ٹیک اکاؤنٹنٹس کی طرح کام کرتے ہیں جو بٹ کوائنز کے لین دین کا ریکارڈ جانچتے اور محفوظ کرتے ہیں۔ اس کام کے عوض کمپیوٹرز کو خود بخود بٹ کوائنز ہی ملتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بٹ کوائن دراصل ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے، جو نہ کسی بینک سے منسلک ہے نہ کسی حکومت کے تابع ہے اور آپ اسے صرف انٹرنیٹ پر خرید، فروخت یا استعمال کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے یہ کرنسی آتی کہاں سے ہے؟ تو اس کاجواب ہے مائننگ اور مائننگ میں طاقت ور کمپیوٹرز مشکل ریاضیاتی سوالات حل کرتے ہیں اور جو یہ سوال سب سے پہلے حل کرے اْسے انعام کے طور پر بٹ کوائن ملتا ہے اور یہی عمل بٹ کوائن کے نیٹ ورک کو محفوظ بھی بناتا ہے جسے بلاک چین کہتے ہیں، یعنی ایک ایسا ڈیجیٹل رجسٹر جو کسی ایک کے پاس نہیں بلکہ پوری دنیا میں بیک وقت بٹ کوائنز کی قیمت موجود ہوتا ہے۔
بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو نہ صرف ہر قسم کی کرپٹو کرنسی کی بنیاد ہے بلکہ این ایف ٹیز بھی اسی کے تحت چلائی جاتی ہیں۔
کرپٹو ایکسچینج ایک ایسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں سرمایہ کار کرپٹوکرنسی کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔
بٹ کوائن بٹ کوائن ہولڈرز ساتوشی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن پیش گوئی شیئر:
We stop working the promoting tension and obtaining frenzies as they come about in genuine time using Bitcoin information.
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بٹ کوائن کی کان کنی ان چند منصوبوں میں سے ایک ہے جو ایک آئینی بادشاہت بھوٹان کو اپنی معیشت کو بڑھانے کی اجازت دیتی ہے جبکہ ایک ملک کی حیثیت سے اپنی اقدار کے ساتھ صف بندی کرتی ہے۔
فروری کے وسط میں ایسے ای ٹی ایف شروع کرنے کے لیے درخواست دینے والی سرمایہ کار کمپنیوں نے ہزاروں کی تعداد میں بٹ کوائنز خریدنا شروع کر دیے، کیونکہ ہیج فنڈز سے لے کر سٹاک مارکیٹ کے تاجروں تک ہر کسی نے بٹ کوائن کی قیمت پر شرط لگانے کے لیے ای ٹی ایف خریدے جبکہ خود ان کے پاس ایک بھی ایسا کوائن نہیں تھا۔
کمپیوٹرز کو چلانے اور انھیں ٹھنڈا رکھنے کی ماحولیاتی لاگت کی وجہ سے بٹ کوائن کی مائننگ متنازعہ ہے۔
انشورنس فراڈ: گاڑیوں پر حملہ سولانا ٹوکنز کرنے والا ’ریچھ‘ انسان نکلا